بنگلور14/مارچ(ایس او نیوز) وزیر داخلہ اور کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہاکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں جیت درج کرنے کیلئے کانگریس کی طرف سے سنجیدہ حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک ماہ پہلے ہی دونوں حلقوں کو مشاہدین روانہ کردئے گئے تھے۔ یہاں کے مقامی کارکنوں اور ووٹروں سے رابطہ کرکے مشاہدین نے اپنی رپورٹ اعلیٰ کمان کو روانہ کردی ہے، ایک دو دن میں یہاں سے پارٹی کے امیدواروں کا اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر اسمبلی حلقہ کی ذمہ داری ایک ایک سینئر وزیر کو دی جائے گی، اس کے علاوہ ان حلقوں میں آنے والے ہر ضلع پنچایت حلقہ میں انتخابی مہم کی نگرانی ایک ایک وزیر خود کریں گے۔ آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے بتایاکہ گنڈل پیٹ اور ننجنگڈ میں چھ پنچایت سیٹیں آتی ہیں، ایک ایک حلقہ کیلئے وزیر کے ساتھ اراکین اسمبلی اور پارٹی کے دیگر لیڈران بھی متعین رہیں گے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے بتایاکہ ننجنگڈھ میں 28گرام پنچایت ہیں، جبکہ گنڈل پیٹ میں 43 گرام پنچایت ہیں۔ ان گرام پنچایتوں میں پارٹی مہم چلانے کیلئے ایک ایک کے پی سی سی عہدیدار تعینات کیا جائے گا۔ پارٹی کی محاذی تنظیموں بشمول یوتھ کانگریس، ایس سی /ایس ٹی شعبہ، اقلیتی شعبہ اور دیگر 14/ شعبوں کو بھی انتخابی مہم کیلئے بھرپور استعمال میں لایا جائے گا۔ پارٹی کے کارکن حلقہ کے ایک ایک گھر تک پہنچیں گے اور پارٹی کی جیت کیلئے جدوجہد کریں گے۔ سابق کے پی سی سی صدر جناردھن پجاری کے اس بیان پر کہ ضمنی انتخابات میں کانگریس کی ہار یقینی ہے، ڈاکٹر پرمیشور نے بتایاکہ ان کا یہ بیان پارٹی اعلیٰ کمان کے علم میں لایا جاچکا ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے متعلق ایک سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ کانگریس اس طرح کی وقتی ناکامیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے،130 سالہ تاریخ پر مشتمل کانگریس نے کئی بار اچھے اور برے دن دیکھے ہیں اور انہیں نبھانے کا تجربہ وہ بخوبی رکھتی ہے۔ ایسا نہیں کہ اترپردیش میں ہارسے ملک بھر میں کانگریس ختم ہوگئی، بلکہ پنجاب، گوا اور منی پور میں کانگریس کامیاب رہی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ گوا اور منی پور میں بی جے پی نے درپردہ طریقوں سے اقتدار ہڑپنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ اگلے انتخابات کے بعد ریاست میں بی جے پی اگر اقتدار پر آئی تو انہیں وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جائے گا، لیکن ریاست میں بی جے پی قطعاً اقتدار پر نہیں آئے گی۔